Mujy Kis Jurm Main Qatal Kia Gaya? By Noor E Saba

مجھے کس جرم میں قتل کیا گیا،؟

ازقلم: مصنفہ نور الصباح

بای ذنب قتلت،؟
مجھے کس جرم میں قتل کیا گیا،؟
کیا میں انسان نہیں تھی،؟
کیا مجھے جینے کا حق نہ تھا،؟
میرا قصور کیا تھا،؟
ہاں میرا قصور بس اتنا تھا کہ میں بیٹی تھی،
کل میانوالی کے شھر میں ایک ظالم باپ نے اپنی 5 دن کی بیٹی کو قتل کر دیا
ظالم نے ایک گولی بھی نہیں بلکہ پوری 6 گولیاں معصوم پھول جیسی بیٹی کے سینے میں گاڑ دی،
آہ قیامت آنے سے پہلے ہی قیامت سا سما آگیا،
دل خون کے آنسو رو رہا ہے معصوم ننہی سی جان کو دیکھہ کے کتنا پیارا اسے اللہ نے بنایا تھا کتنی خوبصورت آنکھوں والی پری تھی اور فرعون نے اسے مار دیا ابھی اس نے دیکھا ہی کیا تھا دنیا میں ابھی تو دنیا کے رنگوں سے غافل تھی ابھی تو ممتا کے پیار کو ترسی تھی ابھی تو باپ کی لاڈلی ہونی تھی اور ظالم باپ نے خود اپنے ہاتھوں سے اپنے ہی خون کو مار ڈالا ظالم کے ہاتھہ بھی نہ کانپے،
آہ اس ماں جیسی ہستی کا کیا حال ہوگا جس نے اپنی جان کو 9 ماہ پیٹ میں سنبھالے رکھا خود چوٹ کھا کر اپنی بچی کی حفاظت کی، اللہ جل جلالہ کے بعد ایک ماں جیسی عظیم ہستی ہی ہوتی ہے جو اپنے بچے کو اپنی آغوش میں سنبھالتی ہے، اللہ پاک اس ماں کو صبر اور استقامت عطا فرمائے،
کل قیامت کو جب اٹھے گی پھول کی کلی تو کیا جواب دے گا ظالم باپ اسے جب پوچھے گی “بای ذنب قتلت” مجھے کس جرم میں قتل کیا گیا۔

2,727 thoughts on “Mujy Kis Jurm Main Qatal Kia Gaya? By Noor E Saba